یوں تو ڈاکٹر سلیم اختر کا اصل میدان تنقید ہے لیکن اُن کے افسانوں کو بھی تخلیقی اظہار کی نمایاں صنف کے طور پر اہمیت دی جاتی ہے۔ تنقید کے میدان میں نفسیاتی دبستان سے اُن کا تعلق ہے۔ علمِ نفسیات کا گہرا اور وقیع مطالعہ ڈاکٹر سلیم اختر کے ہاں کردار نگاری کا بھی […]

مزید پڑھیں

ن۔ م۔ راشد جدید اُردو نظم کے سب سے اہم شاعر ہیں۔ انھوں نے جدیدیت کی تحریک سے گہرے اثرات قبول کیے اور اس فکری رجحان کے تمام لازمی عناصر کو اپنی شاعری میں سمویا جن میں سے ایک زندہ کرداروں کو نظم کرنا بھی تھا۔ راشد کے ہاں‘ حسن کوزہ گر’ اور جہاں زاد […]

مزید پڑھیں

کہانی یا قصہ میں شامل اشخاص کے احوال و اطوار کا بیان کردار نگاری کہلاتا ہے۔ فکشن کی مختلف اصناف میں جو اشخاص واقعات کے سلسلے کی کڑی بنتے ہیں ان کی کوئی نہ کوئی انفرادی پہچان ہوتی ہے، جب اپنی اسی انفرادیت کی وجہ سے وہ فکشن میں بیان ہوتے ہیں، تووہ کردار بن […]

مزید پڑھیں

مشتاق احمدیوسفی کے ہاں جہاں دیگرکرداراپنے پورے آب وتاب کے ساتھ جلوہ دکھا رہے ہیں وہاں اُن کے ہاں کچھ نسوانی کرداربھی موجود ہیں، جو ان کے مردانہ کرداروں سے کسی بھی صورت کم اہم نہیں،اُن کے نسوانی کرداروں میں مِس آنسہ سمنتا فرزوقؔ، مِسزشوارز،مِسز جم،مِس راٹھور،مِس ریمزڈن، بیوہ میم، تمیزن،مِس مارجری بالڈاورمیڈم روبینہ شاہین […]

مزید پڑھیں

کردار کا لفظ یا کردار نگاری کی اصطلاح جوں ہی ہماری سماعتوں سے ٹکراتی ہے ہمارا ذہن فوراً افسانوی ادب کی طرف لپک جاتا ہے۔داستان، ناول، افسانہ اور ڈراما افسانوی ادب کی مختلف ہیئتیں ہیں۔ افسانوی ادب خواہ وہ داستان کی شکل میں ہویا ناول اور افسانے کی ہیئت میں ہویا ڈرامے کی صورت میں،ان […]

مزید پڑھیں