قیامِ پاکستان تک اردو شاعری میں علامت نگاری اپنے جملہ امکانات کو دریافت کر چکی تھی۔ میر سے لے کر اقبال تک سب نے اپنی شاعری میں علامتوں کا ایک تازہ جہان آباد کیا اور مستعمل علامات کو نئے مفاہیم عطا کیے۔ پاکستانی شاعری کے علامتی نظام کو ہماری گذشتہ ستر سالہ سیاسی، سماجی اور […]

مزید پڑھیں

اردو نثر میں علامت ابتدا ہی سے موجود تھی۔ داستان میں اس کا رجحان زیادہ تھا۔ ناول نگاروں نے بھی علامت کو استعمال کیا۔ اردو افسانے میں ساٹھ کی دہائی سے علامت، تحریر، تمثیل اور استعاراتی تکنیک استعمال کی جانے لگی۔ اردو غزل کے لیے علامت کوئی نئی چیز نہیں تھی تاہم علامتی غزل کا […]

مزید پڑھیں

سہیل احمد خان معروف نقاد، سکہ بند دانش وَر اور ایک بڑے شاعر تھے۔ اُن کا اصل کام علامتوں کے سرچشموں کا سُراغ لگانا اور اُن کی تفہیم تھا۔ اس کام کے لیے وہ تحقیق و جستجو کا ایک سلسلہ شروع کرتے ہیں اور اِسے لامحدود سفر کا نام دیتے ہیں۔ انھوں نے علم کی […]

مزید پڑھیں

جدید اردو شاعری میں ن۔م۔ راشد کو بلند مقام حاصل ہے۔ ان کی شہرت اردو نظم میں جہاں ہیئت کے تجربات کے حوالے سے ہے وہیں ان کا یہ کمال بھی ہے کہ انھوں نے نئی نئی علامات کے استعمال سے خیال و فکر میں بصیرت افروز اضافے کیے ہیں جن کے اعجاز سے متخیلہ […]

مزید پڑھیں

اردو نظم میں بیسویں صدی میں کئی تجربات ہوئے اور متعدد رجحانات سامنے آئے۔ ان میں سے ایک علامت نگاری کا رجحان بھی ہے۔ علامت نگاری کے اثرات زیادہ تر یورپ اور فرانس کے ادب کے اثرات کا نتیجہ ہیں۔ اس مضمون میں اس رجحان کا تنقیدی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں