اگرچہ کئی چاند تھے سر آسماں میں ناول کے علاوہ شخصیت نگاری، سیرت نگاری، تاریخ نگاری، تذکرہ نگاری، افسانہ نگاری، ہند یورپی تہذیب کا بیانیہ اور سب سے بڑھ کر مرقع نگاری کا اعلیٰ نمونہ نظر آتا ہے لیکن ان سب باتوں کے ساتھ ساتھ یہ ایک بہت بڑا تاریخی ناول بھی ہے جس کے […]

مزید پڑھیں

مصنفہ نے اپنے اس مقالے میں شمس الرحمٰن فاروقی کے ناول ‘‘کئی چاند تھے سرِآسماں’’اور مرزا اطہر بیگ کے ناول ‘‘غلام باغ’’ میں اشتراکات اور موضوع کی ہم رنگی کو بیان کرتے ہوئے دونوں ناولوں کا پس نو آبادیاتی تجزیہ کرنے کی کوشش کی ہے۔

مزید پڑھیں