مقالہ نگار: صغیر زرتاشیہ/ ہاشمی، طارق محمود
اقبال کی غزل میں فلسفۂ اخلاق

اقبال کی غزل میں فلسفۂ اخلاق بنیادی اہمیت کا حامل موضوع ہے۔ انھوں نے اخلاقی اقدار کو اجاگر کرنے کے لیے کئی ایک تلمیحات استعمال کی ہیں اور تاریخِ اسلام سے بعض کرداروں کو بہ طور نمونۂ حیات پیش کیا ہے۔ معاشرے میں اقداری تبدیلی کے سلسلے میں انھوں نے اسلامی تعلیمات کے ان پہلوؤں […]

مزید پڑھیں

تخلیق آدمؑ سے حقیقت آدم (انسان)تک کا مذہبی، تہذیبی، تمدنی، ثقافتی، معاشرتی اور سماجی سفر فلسفہ و شعر سمیت متعدد علوم کا اہم موضوع رہا ہے۔ جس طرح اقبال کا “فلسفہ و شعر”اپنی نوعیت، وسعت اور تنوع کے اعتبار سے ہمہ گیریت کا حامل ہے اسی طرح ان کا تصور آدم بھی اپنے اندر مخصوص […]

مزید پڑھیں

اقبال نے ہر سطح اور ہر شعبے میں نوجوانوں کے خیالات کی تشکیل نو میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔ اقبال نے نوجوانوں کے خیالات میں سب سے بڑی تبدیلی اس وقت پیدا کی جب انھیں تقلید اور پیروی جیسی بیماری سے بچنے کا درس دیا۔ اقبال نے نوجوانوں کو حرکت وعمل اور خودی کا […]

مزید پڑھیں

علامہ اقبال نے اپنی شاعری میں بہت سے نظریات پیش کیے ہیں جن میں خودی، جبر و قدر اور حیات بعد الموت کے نظریات بہت اہمیت رکھتے ہیں۔ اقبال کے نزدیک خودی رازِ درونِ حیات بھی ہے اور بیداریٔ کائنات بھی ہے۔ حیات بعد الموت کے حوالے سے بحث کرتے ہوئے اقبال کہتے ہیں کہ […]

مزید پڑھیں

اقبال کو  فلسفۂ عجم کے مطالعے کے بعد یہ احساس ہوا کہ مسلمانوں کے زوال کا ایک بڑا سبب تقدیر اور قسمت کا وہ عجمی تصور ہے جو ہر کسی کے دماغ پر مسلط ہے۔ یہ تصور خودی کی نفی کرتا ہے۔ اقبال نے تقدیر اور توکل کے اس غلط تصور کو بے عملی کا […]

مزید پڑھیں