اس مقالے میں فکرِ اقبال اور مارکسی فلسفے کے بنیادی حاصلات پر بحث کی گئی ہے۔ مارکسی فلسفے کے حوالے سے فکرِ اقبال کا تجزیہ کیا جائے تو ان کے کلام میں متعدد انقلابی اشعار ملتے ہیں جو نہ صرف مارکسی فلسفے کو سراہتے ہیں بل کہ مارکسی فلسفے کو قوت دیتے ہیں۔ اقبال مارکسی […]

مزید پڑھیں

علامہ اقبال کی فکر اور فلسفے کی بنیاد دینِ اسلام پر ہے۔ اقبال کی رائے میں شعور زندگی کا مظہر ہے اور زندگی خارجی قوت سے چلنے والی مشین نہیں بل کہ اس کی تعبیر روحانی قوت کے طور پر کی جاتی ہے۔ طبعی علوم سے ایسے مظاہر کے روابط دریافت کیے جاتے ہیں جو […]

مزید پڑھیں

جوں جوں علامہ اقبال کی شخصیت اور ادبی وعلمی تحریروں پر تحقیق کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے نئے سوالات اور اُن پر نئی تحقیقات بھی سامنے آرہی ہیں۔ اقبال کے بارے میں گزشتہ کچھ عرصے سے محققین مسلسل اس سوال سے بحث کررہے ہیں کہ آیا اقبال ایک فلسفی تھے یا پھر ایک ایسے […]

مزید پڑھیں

قرونِ وسطیٰ کے متکلمانہ فلسفہ میں وجودِ باری تعالیٰ کے اثبات کے لیے تین دلائل پیش کیے گئے  ہیں، پہلا  کونیاتی  یا  تعلیلی  استدلال (Cosmological  Argument)دوسرا غایتی استدلال(Teleological Argument) اور تیسرا وجودیاتی استدلال (Ontological Argument)۔ علامہ اقبال نے ان تینوں دلائل کا تجزیہ کرتے ہوئے ان سے اختلاف کیا ہے۔ اقبال کے خیال میں یہ […]

مزید پڑھیں

انجمن حمایت اسلام لاہور کے پندرھویں اجلاس میں جب علامہ اقبال نے ‘نالۂ یتیم’ پیش کی تو اس نے مسلمانوں کی روحوں کو گرمانے کے علاوہ بطور شاعر اقبال کو معتبر پہچان بھی عطا کی لیکن یہ بھی ایک دلچسپ حقیقت ہے کہ جب علامہ نے ۱۹۲۴ء میں اپنے شہرۂ آفاق اُردو مجموعۂ کلام ‘بانگِ […]

مزید پڑھیں