تجریدیت بنیادی طور پر مصوری کی تحریک ہے۔ تجریدی آرٹ کی ابتدا بیسویں صدی کے اوائل برسوں میں ہوئی اور اس کا سبب یہ تھا کہ مصور روایتی انداز کی تجسیمی مصوری سے تنگ آکر کوئی تبدیلی اور نیاپن لانا چاہتے تھے۔ اس تحریک سے جب ادب متاثر ہوا تو کافکا ایسا بڑا تجریدی فنکار […]

مزید پڑھیں

پریم چند کا شمار ترقی پسند تحریک کے اولین نمائندہ فکشن نگاروں میں ہوتا ہے۔ انھوں نے ہندوستانی سماج کے مختلف رویوں، حقیقتوں اور اقدار کو اپنے افسانوں اور ناولوں کا موضوع بنایا ہے۔ پریم چند کے ناولوں کا ایک بڑا موضوع طبقاتی استحصال ہے جو سیاسی اور معاشرتی سطح پر اُن کے عہد میں […]

مزید پڑھیں

اس مضمون میں فکشن کی تعریف کے بعد سرسید دور کو اُردو نثر میں ایک بڑی تبدیلی کے دور کے طور پر لیا گیا ہے۔ اسی دور میں اُردو ناول نے آنکھ کھولی اور پھر بیسویں صدی میں اُردو افسانے کا آغاز ہوا۔ برصغیر کے مخصوص حالات کے تناظر میں فکشن کی دونوں بڑی اصناف […]

مزید پڑھیں

شمس الرحمٰن فاروقی کا ناول”کئی چاند تھے سرآسماں” اردو ادب کا رجحان ساز ناول ہے۔ اس نے جدید اردو فکشن میں ایک سنگ میل کی حیثیت حاصل کرلی ہے۔ فاروقی نے اس ناول میں معاصر تاریخ اور ہند اسلامی تہذیب وثقافت کو اٹھارویں اور انیسویں صدی کے تناظر میں پیش کیا ہے۔ در اصل اِس […]

مزید پڑھیں

شمس الرحمٰن فاروقی اردو ادب بالخصوص معاصر اردو فکشن کی تنقید کا ایک معروف نام ہے۔ انھیں بطور تنقید نگار، محقق اور ادیب ایک مسلمہ حیثیت حاصل ہےمگر اُن کی شہرت کا بڑاحوالہ تنقید نگاری ہے۔ اُن کا ادب کی تجدیدی تحریک سے قریبی تعلق ہے۔انھیں اردو ادب کی صنف داستان کا سنجیدہ قاری مانا […]

مزید پڑھیں