مقالہ نگار: ضیاءالحسن نیر مسعود کا افسانہ ‘‘مسکن’’: تجزیاتی مطالعہ

بنیاد : مجلہ
NA : جلد
5 : شمارہ
2014 : تاریخ اشاعت
گرمانی مرکزِ زبان و ادب، لاہور یونی ورسٹی آف مینجنٹ سائنسز، لاہور : ناشر
نجیبہ عارف : مدير
NA : نايب مدير
Visitors have accessed this post 4 times.

نیرمسعود اردو کے ان افسانہ نگاروں میں شمار ہوتے ہیں جن کے نقادوں کی غالب اکثریت اس نقطے پر متفق ہے کہ ان کے افسانے کی تفہیم مشکل ہے لیکن ان کے افسانے اس تخلیقی لطف کے حامل ہیں جو اردو ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے افسانہ نگاروں میں کم یاب ہے۔ یہاں سے افسانے کی ایک نئی تنقید آغاز ہوتی ہے جو ہمیں یہ بتاتی ہے کہ افسانے یا کسی بھی تخلیقی فن پارے کی پہلی معنویت اس لطف میں پوشیدہ ہوتی ہے جو قاری اس فن پارے کی قرأت سے حاصل کرتا ہے۔ نیّر مسعود کا یہ افسانہ بھی اسی تخلیقی لطف سے مالامال ہے جس کی وجہ سے عدم تفہیم کے باوجود تربیت یافتہ قارئین ان کے فن کے شیدائی ہیں۔ معنویت سے قطع نظر وہ ایک پوری کہانی ترتیب دیتے ہیں جس کا پلاٹ بہت گندھا ہوا ہوتا ہے اور اس میں کہیں بھی کوئی جھول محسوس نہیں ہوتا۔ افسانے کے بیانیے میں انھوں نے اس قدر پُراَسراریت پیدا کر دی ہے جو قاری کی دلچسپی اور تجسس کو مسلسل ابھارتی رہتی ہے۔