مقالہ نگار: ندیم، روش نو آبادیاتی دور میں ادب کافیمنیاتی پس منظر

تخلیقی ادب : مجلہ
NA : جلد
11 : شمارہ
2014 : تاریخ اشاعت
شعبۂ اردو، نیشنل یونی ورسٹی آف ماڈرن لینگویجز، اسلام آباد : ناشر
روبینہ شہناز : مدير
NA : نايب مدير
Visitors have accessed this post 1 times.

انیسویں صدی سے پہلے اُردو ادب کی تاریخ میں ہمیں کسی بھی عورت مصنف کی کوئی تصنیف نظر نہیں آتی۔ سر سید سے ترقی پسندی تک نو آبادیاتی دور کے اُردو ادب کا مطالعہ ایک بدلتے ہوئے فیمنیائی نقطۂ نظر کی نشان دہی کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رشید النسا سے رشید جہاں تک آتے آتے صورتِ حال مکمل طور پر بدلتی ہوئی سامنے آتی ہے۔ بیداری واصلاحِ نسواں کے لیے کی گئیں کوششوں کے نتیجے میں بیسویں صدی کے آغاز سے ہی خواتین خود میدان میں اُترنے لگیں۔ ان خواتین نے مردانہ روایتی و اخلاقی بندشوں اور اقدار کو رد کر کے نئی ہندوستانی عورت کے لیے راستہ ہموار کیا جس کی بنیاد پر ترقی پسند ذہن کی نئی عورت جدید اقدار و اخلاقیات کی تشکیل کرتے ہوئے نئے خیالات میں ایک نئے روپ میں ابھری۔  رشید جہاں، عصمت چغتائی، ادا جعفری، ممتاز شیریں، بیگم شائستہ اکرام اللہ اور قرۃ العین حیدر اسی نئی روایت کی نمائندہ تھیں۔ اس تحقیقی مقالے میں نو آبادیاتی دور میں اُردو ادب کے فیمنیائی پس منظر کا تجزیاتی مطالعہ پیش کیا گیا ہے۔