مقالہ نگار: ندیم، ایوب مجید امجد کی نظم “جلوس جہاں” کا تجزیہ

بازیافت : مجلہ
25 : جلد
NA : شمارہ
2014 : تاریخ اشاعت
شعبۂ اردو، اورینٹل کالج، پنجاب یونی ورسٹی، لاہور : ناشر
محمد کامران : مدير
NA : نايب مدير
Visitors have accessed this post 5 times.

مجید امجد اپنے اردگرد کے ماحول کا بہت گہرا مشاہدہ کرنے والے شاعر تھے۔ ان کی نظموں میں لفظ اور معنی کا رشتہ بہت گہرا ہوتا ہے۔ اپنی نظموں میں وہ گرد و نواح کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہیں۔ مثلاً ‘‘نظم جلوسِ جہاں’’میں وہ سفر کے منظر کو ڈرامائی انداز میں بیان کرتے ہیں جو تین حصوں پر مشتمل ہے۔ اس کے پہلے حصے میں وہ ایک کوچوان کی تصویرکشی کرتے ہیں جو انتہائی نیک اور نرم مزاج کا انسان ہے اور شاعر اس کے تانگے پر سوار ہو جاتے ہیں۔ دوسرے منظر میں وہی کوچوان تیز رفتاری دکھاتا ہے اور اپنی سواری کو بہت تیز چلاتا ہے۔ اس کا رویہ اب پہلے والے منظر کی طرح دکھائی نہیں دے رہا۔ تیسرے بند میں شاعر نتیجہ اخذ کرتا ہے کہ انسان اپنا رویہ، اپنے موجودہ وقت کے مطابق بدل لیتا ہے۔ انسان مختلف نہیں ہوتے بلکہ وقت مختلف ہوتا ہے۔