مقالہ نگار: شفیع،محمد افتخار لکھنوی غزل میں سراپاے محبوب کے نقش ہاے رنگ رنگ

الماس : مجلہ
NA : جلد
NA : شمارہ
2018 : تاریخ اشاعت
شعبۂ اردو، شاہ عبد اللطیف یونی ورسٹی، خیرپور، سندھ : ناشر
محمد یوسف خشک : مدير
NA : نايب مدير
Visitors have accessed this post 4 times.

لکھنو میں غزل کے بجائے ایسی اصناف کو فروغ ملا جن میں خارجی عناصر کو بخوبی برتا جا سکتا تھا۔ غزل گو شعرانے خارجیت کو غزل کا جزو بھی بنا دیا جس سے غزل اپنے اصل رنگ سے محروم ہو گئی۔ لکھنوی معاشرے میں آزادی اور بناوٹ کے سبب لکھنوی شعرا نے سراپا نگاری کے خارجی مظاہر کو غزل کا موضوع بنایا۔ لکھنوی شعرا نے محبوب کے حسن و جمال سے زیادہ اس کے ملبوسات، زیورات اور اعضاے بدن کا ذکر کیا ہے اور سراپا نگاری کو شعری حسن کے بجائے مجسمہ سازی بنا دیا۔