مقالہ نگار: علی، سلمان/ خان،محمد اسرار فرازؔ کی شاعری میں پس نوآبادیات کے خلاف مزاحمت

خیابان : مجلہ
NA : جلد
32 : شمارہ
2015 : تاریخ اشاعت
شعبۂ اردو، جامعہ پشاور، پشاور : ناشر
بادشاہ منیر بخاری : مدير
NA : نايب مدير
Visitors have accessed this post 11 times.

فرازؔ کی شاعری میں دوسرے مختلف مزاحمتی عناصر کے ساتھ ساتھ ایک حوالہ پس نوآبادیات کے خلاف مزاحمت کا ہے۔ نوآبادیاتی نظام سے مراد ایک ایسا نظامِ حکومت ہے جس میں طاقتور اقوام کمزور اقوام کے ممالک پرقبضہ کرکے انھیں غلام بناتی ہیں اور ان سے اپنے مفادات کا حصول ممکن بناتی ہیں۔ زیرِ نظر مقالے میں نوآبادیات اور نوآبادیاتی نظام کی تعریف اورپچھلی صدی میں نوآبادیات کی تاریخ پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ فراز کے ہاں نوآبادیاتی نظام کے خلاف بغاوت ان کی مزاحمتی شاعری کی ایک کڑی ہے۔ آزادی کے بعد بھی یہ نوآبادیاتی قوتیں اس نئے ملک میں ریشہ دوانیوں کا جال پھیلاتی رہی ہیں۔‘‘تیل کے سوداگر’’،‘‘بیروت’’،‘‘سلامتی کونسل’’، ‘‘سفید حویلی’’ وغیرہ جیسی نظموں کی روشنی میں نوآبادیاتی اور پس نوآبادیاتی نظام کے خلاف ان کے غم و غصے اور مزاحمت کے رنگوں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔