مقالہ نگار: ندیم، ایوب عارف عبدالمتین کی طویل نظم “شہر بے سماعت”کا فکری و فنی مطالعہ

تخلیقی ادب : مجلہ
NA : جلد
10 : شمارہ
2013 : تاریخ اشاعت
شعبۂ اردو، نیشنل یونی ورسٹی آف ماڈرن لینگویجز، اسلام آباد : ناشر
روبینہ شہناز : مدير
NA : نايب مدير
Visitors have accessed this post 2 times.

اُردو شاعری میں طویل نظم کی روایت خاصی مستحکم ہے اس کا سبب وہ محرکات ہیں جو شاعر کو طویل نظم لکھنے کی طرف راغب کرتے ہیں۔عارف عبدالمتین  ایک ترقی پسند شاعر تھے۔وہ اپنی طویل نظم"شہر بے سماعت" میں جو اُن کی زندگی کی آخری مطبوعہ تصنیف ہے، ایک ایسے دوراہے پر کھڑے نظر آتے ہیں جہاں خارجیت اور داخلیت کے راستے یک جا ہوجاتے ہیں۔ عارف عبدالمتین کی"شہر بے سماعت"اپنی تکمیل کے لیے خارج سے داخل کی طرف سفر کرتی ہے۔ اس نظم کے لیے شاعر نے غزل کی ہیئت کا انتخاب کیا ہے۔ پوری نظم پچاس شعری ٹکڑوں یا غزلوں پر مشتمل ہے۔ ہر ٹکڑے میں سات اشعار ہیں اورہر ٹکڑے کی ابتدا مطلع سے ہوتی ہے۔ بادی النظر میں یہ نظم غزلوں کا مجموعہ معلوم ہوتی ہے۔ یہ نظم اُن کی آپ بیتی بھی ہے اور جگ بیتی بھی۔ شاعر نے اس نظم کی اساس تین بنیادی سوالوں پر رکھی ہے۔ انسان کیا تھا؟کیا ہے؟ اور اُسے کیسا ہونا چاہئے؟ وہ سمجھتے تھے کہ آج کا انسان مادیت، تصنع اور منافقت کی وجہ سے اپنی اصل شناخت کھو بیٹھا ہے۔ اس لیے انسانی باطن کی بازیافت ضروری ہے۔ اسی طرح شاعر ایک ایسے آئیڈیل کا متلاشی نظر آتا ہے جس کے جسمانی وجود سے زیادہ اُس کا تصوراتی وجود اہم ہے۔ یہ نظم ایسی صدا ہے جسے شہرِبے سماعت میں سُننے والا کوئی نہیں ہے۔