مقالہ نگار: شیراز سامراجیت وملوکیت پر اقبال کی تنقید: ایک تحقیقی مطالعہ

الماس : مجلہ
15 : جلد
NA : شمارہ
2014 : تاریخ اشاعت
شعبۂ اردو، شاہ عبد اللطیف یونی ورسٹی، خیرپور، سندھ : ناشر
محمد یوسف خشک : مدير
NA : نايب مدير
Visitors have accessed this post 4 times.

اقبال کی پیدائش برطانوی نو آبادیات کے عروج کے دور میں ہوئی۔ اس حوالے سے اقبال نے اپنے دورِ طالب علمی سے ہی انگریزوں کی ظالمانہ پالیسیوں کاجو انھوں نے اپنے زیرِنگیں ممالک اور علاقوں میں روا رکھی ہوئی تھیں، گہرا مشاہدہ کیا۔ حصولِ تعلیم کے لیے قیامِ یورپ کے دوران انھوں نے اس معاشرے، حکومت اورلوگوں کا اور بالخصوص ان کی تہذیب کا بطور ایک زیرک دانش ور مشاہدہ کیا۔ اپنے تین سالہ مختصرقیامِ یورپ کے دوران انھوں نے یہ اندازہ لگالیا  تھاکہ مادیت اور سرمایہ داری پر مبنی مغربی تہذیب نہ صرف اپنی بربادی اور تباہی کے اسباب اپنے اندررکھتی ہے بلکہ تمام انسانیت کے لیے انتہائی مضر ہے۔ چنانچہ وطن واپسی کے وقت وہ اپنے ذہن میں سامراجیت، ملوکیت، مغربی جمہوریت، جاگیردارانہ اور سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف  لائحہ عمل ترتیب دے چکے تھے۔ اقبال کا دستیاب تمام تر شعری و نثری سرمایہ اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ انھوں نے عمر بھر نوآبادیاتی نظام اور شاہی نظام کو یکسرمستردکیا۔ پیش نظر مقالہ اقبال کو ایسے  صاحبِ بصیرت فلسفی کے روپ میں سامنے لاتا ہے جو ملوکیت، سامراجیت اور سامراجی فکر کے سب سے بڑے مخالف تھے۔