مقالہ نگار: بیگم،ارشاد “جانگلوس” کا کرداری مطالعہ

تخلیقی ادب : مجلہ
NA : جلد
11 : شمارہ
2014 : تاریخ اشاعت
شعبۂ اردو، نیشنل یونی ورسٹی آف ماڈرن لینگویجز، اسلام آباد : ناشر
روبینہ شہناز : مدير
NA : نايب مدير
Visitors have accessed this post 2 times.

شوکت صدیقی اردو ادب کے نام وَر مصنفین کی صف میں شامل ہیں۔ یوں تو وہ بہترین افسانہ نگار کے طور پر پہچانے جاتے ہیں لیکن اگر یہ کہا جائے کہ ناول "خدا کی بستی" اور "جانگلوس"نے ان کی شہرت کو دوام بخشا تو غلط نہ ہوگا۔ شوکت صدیقی نے ناول"جانگلوس"میں پاکستانی معاشرے کے دو طبقوں کی نمائندگی کی ہے۔ ایک ظالم طبقہ اور دوسرا مظلوم طبقہ۔ انھوں نے اپنے کرداروں کے ذریعے طبقاتی ذہنیت کا پردہ چاک کیا۔ "جانگلوس"میں مصنف نے تہذیب یافتہ اور غیر مہذب دیہی مقتدر طبقے کی بے حسی اور لاقانونیت کی عکاسی کی ہے۔ "جانگلوس" دیہی انڈر ورلڈ کا منظر نامہ ہے شاید یہ بات عجیب سی لگے لیکن جاگیر دارانہ نظام بھی ایک نوع کا انڈر ورلڈ یا جرائم کی دُنیا ہے۔ مجموعی طور پر اس ناول کی اُٹھان فطری ہے اور وہ اپنے معاشرے کی سچی تصویر کشی کرتے نظر آتے ہیں۔اس طبقے کے کردار اپنے طبقے کی نمائندہ خصوصیات کے حامل ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی انفرادی پہچان بھی رکھتے ہیں اور کردار نگاری کے حوالے سے مصنف کی گہری دسترس کے عکاس ہیں۔ یہ مقالہ اس ناول سے متعلق کرداروں کا ایک تجزیاتی مطالعہ ہے۔