مقالہ نگار: عباس،مظہر /جمال، نجیب تجریدیت اور اُردو ناول

جرنل آف ریسرچ : مجلہ
NA : جلد
27 : شمارہ
2015 : تاریخ اشاعت
شعبۂ اردو، بہاء الدین زکریا یونی ورسٹی، ملتان : ناشر
روبینہ ترین/قاضی عابد : مدير
NA : نايب مدير
Visitors have accessed this post 4 times.

تجریدیت بنیادی طور پر مصوری کی تحریک ہے۔ تجریدی آرٹ کی ابتدا بیسویں صدی کے اوائل برسوں میں ہوئی اور اس کا سبب یہ تھا کہ مصور روایتی انداز کی تجسیمی مصوری سے تنگ آکر کوئی تبدیلی اور نیاپن لانا چاہتے تھے۔ اس تحریک سے جب ادب متاثر ہوا تو کافکا ایسا بڑا تجریدی فنکار سامنے آیا۔ ادبی اظہار میں تجریدیت سے مراد ٹھوس جسم کے بجائے ہیولوں اور سایوں کے ذریعے صورت پذیری ہے۔ اُردو فکشن میں تجریدیت کی کامیاب مثالیں نسبتاً کم ہیں لیکن کچھ ناول نگاروں نے ایسے تجربات ضرور کیے ہیں۔ اس مضمون میں اُردو ناول میں تجریدیت کا عنصر تلاش کرنے اور اس کا تجزیہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔